28/07/2022
خوں میں ڈوبا ہوا آ رہا ہے علم
ہوں گئے دونوں بازو جری کے قلم
۱- جاکے امّوں سکینہ کا آ نہ سکا
پیاسے بچوں کو پانی پلا نہ سکا
پیٹتے ہیں سر و سینہ اہلِ حرم
۲- پرچمِ دین حق زخمی ہاتھوں میں تھا
تسمہ مشک سکینہ کا دانتوں میں تھا
آنکھ پر مارا ظالم نے تیر ستم
۳- آہنی گرز سر پہ لگا جس گھڑی
گر گیا اپنے گھوڑے سے نیچے جری
تر لہو سے ہوا سر سے تا بہ قدم
۴- دوڑے امداد کو شاہ جن و بشر
تھام کر دونوں ہاتھوں سے اپنی کمر
نکلا زانو پہ مولا کے غازی کا دم
۵- دیکھکر پرچمِ حق بدستِ پدر
بولی بالی سکینہ بدید ہ تر
بچوں وعدے کا رکھ پائی میں نہ بھرم
۶- میرا وعدہ تھا پانی ملےگا تمہیں
عموں سیراب آکے کریگا تمہیں
پھینک دو اپنے کوزے زمیں پہ بہم
۷- سبکی لاشوں پہ خیموں میں ماتم ہوا
داخل خیمہ جس وقت پرچم ہوا
تھی صدا ہائے ثقائے اہلِ حرم
۸- مٹ گئے اہلِ باطل کے ناموں نشاں
ذکرِ عباس غازی ہے اب بھی جواں
آج بھی بر سرِ مجلسِ ذی حشم
۹- جو تھا اہلِ حرم کا سہارا گیا
شیر حیدر کا دریا پہ مارا گیا
کیسے شمشاد دل سے بھلا دے یہ غم