28/07/2022
امیرم حسین - کریمم حسین - فدا جان من عزیزم حسین۔
۱ بھرا گھر ایک دن ہی میں اُجڑ گیا تیرا
ہے گونجتی فضا میں وا حسینا کی صدا
اے شہسوار دوش نبی
لختِ دل زہرا و علی
کیسی یہ مصیبت آن پڑی
سوکھے گلے پہ کند چھری
کسی کی صدا رن میں آتی رہی
میرے تشنہ لب غريبم حسین
۲۔ جنوں نے جا کہ زعفر زمان سے کہا
یہ جشن تاجپوشی تو خدا را نہ منا
ہم کربلا سے آئے ہیں
غم کی خبر یہ لائے ہیں
ظلم و جفا کے سائے ہیں
بادل ستم کے چھائے ہیں
ہیں رن میں کھڑے تنہا شاہ هدا
بدن زخمی ہیں لب دم حسین
۳ - یہ سنتے ہی زمیں پہ پھینکا اپنا تاج سر
پھر اسکے بعد آنسووں سے بھر گئی نظر
نصرت کو لیکے چل پڑا
لشکر بسوے کربلا
ازن وغا نہ مل سکا
گریہ کناں واپس ہوا
زباں پہ تھا جاری یہ مرثیہ
امامم حسین امامم حسین
۴- پلٹ کے زعفر آ گیا جو کربلا سے گھر
پکاری ماں حسین پر نہ جاں دی کیوں پسر
کہا یہ ماں سے رو رو کر
دے دے جو اذن رن سرور
پلٹ کے رکھ دیگا سارا لشکر
دلا دو اذن جہاد مادر
سر کربلا ہے تنہا کھڑا
حبیبم حسین حبيبم حسین
۵- پکاری ماں حسین پر نہ جاں دی کیوں پسر
دیکھا دے دشمنان شہ کو جنگ کا ہنر
شبیر ہے امیر جناں
کر دے خوشی سے اپنی جاں
زہرا کے لعل پر قرباں
راضی نہ ہوگی ورنہ ماں
رضا حق پہ مرنے کی جلدی سے لے
مصیبت میں ہے رئیسم حسین
۶ کہیں حسین کو نہ مار ڈالیں بد گوہر
سکینہ ہو نہ جائے کربلا میں بے پدر
چلتی ہیں میں گذارش کو
شہ سے تیری سفارش کو
مقتل میں میر دانش کو
بتلاؤں تیری خواہش کو
زمین آسماں ہوں اس پر فدا
ہے دین خدا شفيقم حسین
۷ جو پہونچا ماں کے ساتھ لشکر فریب میں
تو دیکھا لاشے حسین ہے نشیب میں
تھا خون میں بدن غلطاں
سر دیکھا سر نوک سناں
خیموں سے اُٹھ رہا تھا دھواں
اور شام غریباں تھی عیاں
یہ کہتا ہوا گر گیا خاک پر
غریبم حسین غریبم حسین
۸ - شہادت حسین کا وہ دل پہ تھا اثر
تمام عمر رويا اپنا سینا پیٹ کر
نام حسین پل پل میں
روتا تھا لکھ کے جنگل میں
شمشاد جا کے کربل میں
کرتا تھا بین مقتل میں
یہ زعفر نہ قربان تم پر ہوا
ہوں نادم امام عزیزم حسین