28/07/2022
رو رو کے شہ کی دختر آواز دے رہی ہے
پنجوں پہ چل رہی ہوں، گردن بندھی ہوئی ہے
سینے پہ بابا جاں کے سوتی تھی میں ہمیشہ
آغوش میں چچا کی ہوتی تھی میں ہمیشہ
اب خاک کا ہے بستر ہر سمت تیرگی ہے
مجھ کو یتیم کرکے خوشیاں منا رہے ہیں
اہل ستم ہمارے خیمے جلا رہے ہیں
چھوٹی سی میری چادر ظالم نے چھین لی ہے
بابا نے جو پنہائے تھے مجھ کو گوشوارے
وہ چھین کر عدو نے اتنے طمانچے مارے
رخسار نیلگوں ہے، کانوں کی لو پھٹی ہے
پشتِ شُتُر پہ مجھ کو باندھا ہے رسیوں سے
سینہ لہو لہو ہے ناقے کی جنبشوں سے
ہر آن لگ رہا ہے اب وقتِ جاں کَنی ہے
میں ہوں یتیم پھر بھی ظالم ستا رہے ہیں
مجھ کو دکھا دکھا کر پانی بہا رہے ہیں
کیسی ہے یہ یتیمی، کیسی یہ بے کسی ہے
میرے پدر کا سر ہے طشتِ طلا میں ہائے
کیسے یتیما اُسکو چھڑیوں سے اب بچائے
بابا سے میرے آخر یہ کیسی دشمنی ہے
نوشاد کیا رقم ہو قیدِ ستم کا منظر
زینب جگا رہی تھیں شانہ ہلا ہلا کر
پھر چیخ کر پکاری بچی تو مر گئی ہے"